Tech Urdu

What is Amazon FBA Fulfillment By Amazon

 اسلام علیکم دوستو آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ ایمازون ایف بی اے کیا ہوتاہے؟ ایمازون ایک بہت بڑی کمپنی ہے جیسے دراز، علی بابا یا علی ایکسپریس ہے جہاں پر لوگ گھر بیٹھے چیزیں منگواتے ہیں، ایسا سمجھ لیں کہ یہ ایک آن لائن دکان ہے جہان پر ہم انٹرنیٹ کے ذریعے سے آن لائن شاپنگ کا کوئی آرڈر دیتے ہیں۔ پھر وہ کمپنیاں ہم کو کچھ دنوں میں ہوم ڈلیوری سروس کے ذریعے وہ پراڈکٹ جوہم نے آرڈر کی تھی کچھ سروس چارجز لیکر ہم کو پنہچاتی ہیں۔

ایف بی اے مطلب فلفلڈ بائے ایمازون یعنی آرڈر جو ہے وہ ایمازون فلفلڈ کرتا ہے۔ ایمازون ضروری نہیں خود پراڈکٹس بیچ رہا ہے، اس کے پاس مختلف ممالک سے سیلرس موجود ہیں جوایمازون کے پلیٹفارم پر اپنی دکان کھولے ہوئے ہیں۔

آج سے  پہلے پاکستانی ایمازون پر ڈائریکٹ اپنا سیلر اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے تھے۔ وہ کیا کرتے تھے کہ یونائٹڈ کنگڈم میں اپنا سمپلی بزنس والوں کے معارفت یا کسی اور کمپنی کے ذریعے سےصرف 5 منٹوں میں 4000 روپے میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے سے پاکستانی حیثیت سے کمپنی سیٹ اپ کرتے تھے۔ 

اسی کمپنی کے عیوض یوکے میں بینک اکاؤنٹ بھی کھولتے تھے۔ اس اکاؤنٹ کے لئے ان کو زیادہ سے زیادہ ایک عدد پاسپورٹ اور کوئی  یوٹلٹی بل جیساکہ بجلی، گیس یا ٹیلیفون کے بل کی اٹیسٹڈ کاپی جمع کروانی ہوتی تھی۔ اس کے بعد ایمازون والے آپ کے ڈاکومینٹ کو چیک کرتے تھے اور 60 سے 70 دن کی تصدیق کے بعد آپ کا ایمازون کا اکاؤنٹ کھل جاتا تھا۔ پاکستان سے کمپنی کا سیٹ اپ ہوجاتا تھا اور ایمازون پر سیلر اکاؤنٹ کھل جاتا تھا۔

آخر کار 6 مئی 2021 کو ایمازون نے پاکستان کو اپنے منظورشدہ سیلرلسٹ میں شامل کرلیا جو کہ ہمارے ملک کے لئے نہایت خوشی کی بات ہے، کیوں کہ  اس سے ہمارا ملک اور ترقی کریگا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی دکان جو کہ ہم نے ایمازون پر سیلراکاؤنٹ کے ذریعے کھولی ہےاس پر جو پراڈکٹس ہم بیچیں گے وہ کہاں سے لائیں گے؟

ہم محب وطن ہونے کی وجہ سے اپنے ملک سے پراڈکٹس لیکر ایمازون پر بیچ سکتے ہیں، مگر ہمیں ہرگز ایسا نہیں کرنا، کیونکہ ہمارا ملک جو پراڈکٹس بناتا ہے اس میں سے اکثر سامان ایسا ہے کو جو باہر ممالک میں بیچنے کے قابل نہیں ہے۔ ہمیں چائنہ سے سامان لینا ہوگا پھر ایمازون کے ویئرہاؤسز میں اسکو بھجوانا پڑیگا پھروہاں سے پوری دنیا میں سیل کرنا ہوگا۔

ہم جو سامان ایمازون کے ویئرہاؤس میں رکھواتے ہیں تو اسکا کرایا ہمیں ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر مہینے کے اندر 60 فیصد سامان بک جاتا ہے تو ایمازون والے ہم سے کرایا نہیں لیتے، اگر نہیں بکا تو پھر کرایا لیا جاتا ہے۔

ان ویئر ہاؤسز میں اکثر تھرڈ پارٹیز کا سامان پڑاہواہےجو یہاں سے ایک ایک کرکے بکتا ہے۔ اس ویئرہاؤس کی سائز ایک کرکٹ اسٹیڈیم جتنی ہوتی ہے جو کہ سامان سے بھرا ہوا ہوتاہے، ایسے ویئرہاؤسز دنیاکے کئے ممالک میں موجود ہیں۔

لوگ یوکے یا امرکہ کا ویئرہاؤس اس لئے پسند کرتے ہیں کہ ان کی زبان انگریزی ہے۔ اگرآپ کو جرمن زبان آتی ہے تو آپ جرمنی کے گدام میں اپنا سامان رکھواسکتے ہیں۔

اگر آپ یہ ایمازون پر بزنس کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ اس کو سمجھیں، ہمارے پاکستان میں دو ایسے ماہر ماسٹر ٹرینر، کامیاب ایمازون کے بزنس مین موجود ہیں جو ایمازون کی ٹریننگ دے رہے ہیں، اور اپنے ملک پاکستان کی خدمت میں آگے آگے ہیں۔

ایک ہیں سر سنی علی اور دوسرے سر ثاقب اظھر، سب سےپہلے آپ ان کی ٹریننگ کلاسز جوائن کریں پھر اپنا ایمازون کا کاروبار شروع کریں۔

جب بھی کاروبارشروع کریں ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے شروع کریں کبھی بھی اپنی ساری جمع پونجی اس میں نہ لگائیں، جو پیسہ آپ کے پاس اپنے استعمال سے زیادہ پڑا ہو اسکو کاروبار میں لگائیں اور بیک اپ میں بھی رکھیں تاکہ مشکل وقت میں کام آسکے۔

ایمازون ایف بی اے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا سامان ایمازون کے کسی گدام میں رکھواتے ہیں جس کی آپ تھوڑی سی فیس ادا کرتے ہیں، وہ گدام والے آرڈر ملنے پر خریدار کو خود پیک کرکے بھجوادیتے ہیں جو خرچہ آتا ہے وہ ویئرہاؤس والے خود کرتے ہیں، آپ کو کوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی، سب کام ایمازون والے آپ کی طرف سے کردیتے ہیں۔ آپ کی پراڈکٹ بھی سیل ہوجاتی ہے، اور آپ گھر بیٹھے منافع کمالیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!