Tech Urdu

YouTube Creator Tutorial

اسلام علیکم دوستو آپ اکثر پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اپنی وڈیوز خود دیکھ سکتے ہیں؟ ہمارے چینل کو 12 مہینے ہوگئے ہیں مگر ہمارے 4000 گھنٹے واچ ٹائم اور 1000 سبسکرائبر مکمل نہیں ہوسکے، تو کیا ہم نیا چینل بنالیں اور ہمارا یہ پرانہ چینل کام کا نہیں؟ اور اس چینل کا کیا کریں؟

دوسرا سوال یہ اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا ہم اپنی وڈیوز کا لنک واٹس ایپ، انسٹا گرام، لنکڈان یا فیسبک پر شیئر کرسکتے ہیں؟ ان سارے سوالات کے جوابات میں اس آرٹیکل میں دینے کی کوشش کرونگا۔ اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد آپ  کو آپ کے سارے  سوالات کے جواب مل جائیں گے، اور آپ کے سارے ڈاؤٹس کلیئر ہو جائیں گے۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں کہ کیا ہم خود اپنے موبائل سے، لیپ ٹاپ سے یا کمپیوٹر سے اپنی  اپلوڈ کی ہوئی وڈیوز کو دیکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ تو اسکا سادہ سا جواب ہے کہ جب بھی ہمار ی وڈیو پلے ہوتی ہے تویوٹیوب والوں کو پتا چل جاتا ہے کہ وڈیو کہاں سے چلی ہے؟ کس ملک سے چلی ہے، کس شہر سے چلی ہے، مالک نے خود چلائی ہے یا اپنی وڈیو کو پروموٹ کر رہا ہے؟

آپ وڈیو کی اینالٹکس میں  جاکر دیکھیں گے تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ کے کسی وڈیو کے جو ویوز آئے ہیں وہ  یوٹیوب سرچ سے آئے ہیں، براؤز فیچرس سے آئے ہیں، نوٹیفکیشن سے آئے ہیں،چینل پیجز سے آئے ہیں، ایکسٹرنل سورس سے آئے ہیں یا کسی اور زریعے سے آئے ہیں؟ جیساکہ میرے چینل پہ یہ  ایک وڈیوکا اینالیٹکس آپ دیکھیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کن ذرائع سے ویوز آئے ہیں؟ یہاں پہ میں یہ بات واضع کردوں کہ میرا چینل بھی تین سال میں جاکے مونیٹائیز ہوا تھا،  تو اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔اب آپ نیچے دی گئی تصویر کا مطالعہ کریں۔

The following are some source types of views on the YouTube channel.

  • YouTube Search
  • External
  • Browse Features
  • Notifications
  • Channel Pages
  • Direct or Unknown
  • Other YouTube features
  • Suggested Videos
  • Playlists
  • Playlist Pages

اب اوپر دئے گئے سب  طریقے بتائے گئے ہیں جو کہ یوٹیوب اچھے طریقے سے جانتا ہے کہ ویوز کہاں کہاں سے آرہے ہیں؟

اب جب آپ  اپنا وڈیو خود دیکھتے ہیں تو یوٹیوب کیا کرتا ہے؟

یوٹیوب آپ کی آئی پی ایڈریس پکڑ لیتا ہے اور آپ کی لوکیشن جان لیتا ہے۔

آپ کا انٹرنیٹ کنیکشن بھی کاؤنٹ کرتا ہے۔ اور آپ کی جی میل آئی ڈی بھی کاؤنٹ ہوتی ہے۔

فرض کریں ہم کسی اور لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے ، کسی نئی جی میل آئی ڈی سے، الگ لوکیشن سے اپنی خود کی وڈیو دیکھیں تو کیا فائدہ ہوگا یا نہیں؟

اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یوٹیوب آپ کی لوکیشن کا لیٹی ٹیوڈ اور لانگی ٹیوڈ نوٹ کرتا ہے، جس سے آپ کی لوکیشن ٹریس ہوجاتی ہے۔یوٹیوب سیٹلائٹ کی اے پی آئی استعمال کرکے آپ کی لوکیشن کی لیٹی ٹیوڈ اور لانگی ٹیوڈ معلوم کرلیتا ہے۔

اگر آپ یہ ٹرک استعمال کرتے ہیں تو جب آپ کا چینل مونیٹائزیشن کے رویو کے لئے  جائے گا تو یوٹیوب آپ کے چینل کا ایک ایک ویو چیک کرے گا، تو آپ کو نقصان ہوگا۔ یوٹیوب خاص کرکے ان وڈیوز کوزیادہ فوکس کرے گاجن وڈیوز پر زیادہ واچ ٹائم اور ویوز ہونگے۔ جب ان وڈیوز کو پکڑا جائے گا تو سارہ پتا چل جائےگا، کہ یہ سب کیسے ہوا؟وہ سمجھ جائیں گے کہ یا سارے ویوز اور واچ ٹائم ایک ہی لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے آئے ہیں، ایک ہی جی میل  آئی ڈی سے آئے ہیں، ایک ہی انٹرنیٹ کنیکشن سے آئے ہیں، تو وہ آپ کا چینل مونیٹائیزیشن کے لئے رد کردیں گے۔

تو اب کلیئر ہوا کہ اپنی وڈیوز خود نہیں دیکھنی چاہئے، اور اس آئی ڈی ، لیپ ٹاپ ، موبائل یا کمپیوٹر سے تو بلکل بھی نہیں جس سے آپ اپنی وڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں، کیونکہ یہ ویوز فیک مطلب کہ جھوٹے کاؤنٹ ہوتے ہیں۔

تو اس طریقے سے ویوز بڑھانا اور واچ ٹائم لینا، آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ہاں اگر آپ کسی دوست کے پاس جاتے ہیں، اس کی لوکیشن الگ ہے، اسکا انٹرنیٹ کنیکشن الگ ہے، اسکی آئی پی ایڈریس الگ ہے، تو آپ ایسے اپنی وڈیوز دیکھ سکتے ہیں، اس میں کوئی مسئلہ نہیں، مگر اسکا بھی کیا فائدہ؟

اگر آپ  چاہتے ہیں کہ آپ کے پرمننٹ ویوز آتے رہیں، اور آپ کا واچ ٹائم خود بخود بڑھتا رہے توآپ کو ایسی وڈیوز بنانی پڑیں گی، جن کو دیکھ کر آپ کے سبسکرائبرس خوش ہوں ، اور جو نیا چینل پے آئے تو وہ بھی آپ کا دیوانہ بن جائے، اور وہ لوگ آپ کے نئی آنی والی وڈیوز کا شدت سے انتظار کریں۔ تو کوئی آپ کے چینل کو گرو کرنے سے نہیں روک سکتا۔

دوسری بات یہ پوچھی جاتی ہے کہ ایک سال پورا ہوگیا نہ تو 4000 گھنٹے واچ ٹائم پورا ہوا اور نہ ہی 1000 سبسکرائبر پورے ہوئے تو کیا ہمارا چینل کبھی مونیٹائیز نہیں ہوگا؟ کیا ہمیں  ایک اور نیا چینل بنانا پڑے گا؟

آپ کا یہ پرانا چینل کبھی بھی مونیٹائز ہوسکتا ہے ایک سال میں دو یا چار سال میں کوئی مسئلہ نہیں۔ یوٹیوب والے کہتے ہیں کہ آپ 365 دنوں کے اندر بتایا گیا واچ ٹائم اور سبسکرائبر پورے کرلیں تو آپ کا چینل ضرور مونیٹائز ہوگا۔

آپ جب اپنا نیا چینل بنائیں تو بیشک اپنے چینل کا لنک فیس بک پر، ٹیوٹر پر، انسٹا گرام یا کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک پر شیئر کریں ، کیونکہ آپ یوٹیوب کی دنیا میں نئے نئے آئے ہیں جب تک آپ یہ شیئرنگ نہیں کریں گے تو لوگوں کو کیسے پتا چلے گا کہ آپ کون ہو، آپ کا چینل کس نیش پے کام کرتا ہے؟ جب  آپ کا چینل تھوڑا  مشہور ہوجائے اور آپ وڈیوز یوٹیوب سرچ میں اور براؤز فیچرس میں آنے لگے  جیسا کہ اوپر اینالٹکس  والی تصویر میں دکھایا گیا ہے،   تو شیئرنگ بند کردیں، کیونکہ یوٹیوب آرگینک ٹریفک کو پسند کرتا ہے۔  اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ آرگینک ٹریفک کیا ہے؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ جب کو یوٹیوب پر یا گوگل پر کوئی چیز سرچ کرتا ہے تو اسکو وہاں پہ آپ کہ وڈیو مل جاتی ہے اور وہ اس سرچ کے ذریعے سے آپ کے چینل تک پہنچتا ہے تو اسکو آرگینک ٹریفک کہا جاتاہے۔ یوٹیوب کو یہ سرچ والی بات بہت پسند ہوتی ہے۔ اس طرح کے ویوز آپ کے یوٹیوب سرچ والے کاؤنٹ ہونگے۔

جب آپ اپنی وڈیوز کی لنک سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر شیئر کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جو ویوز آتے ہیں وہ ایکسٹرنل ویوز کہلاتے ہیں۔ آپ اپنے وڈیوز کے لنک ان کے ساتھ شیئر کریں جو واقعی آپ کی وڈیوز مکمل دیکھیں، ان کے ساتھ نہیں جو دیکھیں ہی نہ ، اگر ایسا نہیں کریں گے تو نقصان ہو سکتا ہے۔

تو یہ تھا آج کا آرٹیکل ، امید کرتا ہوں کہ میری یہ محنت آپ کو پسند آئی ہوگی، اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو تو آپ کمینٹ کرکے ہم سے پوچھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!